اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے صدر جوزف عون نے ادارہ "الدرز"، البلمند یونیورسٹی کے عہدیداروں اور اقوام متحدہ کی سابق امن کارروائیوں کی رابطہ کار سیگرید کاگ پر مشتمل وفد سے ملاقات میں کہا کہ لبنانی شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف لبنانی حکومت اور ملکی فوج پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے روم میں ہونے والے آئندہ مذاکرات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں عملی اقدامات سامنے آنے چاہییں، جن میں اسرائیلی افواج کا لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور ان علاقوں میں لبنانی فوج کی تعیناتی شامل ہے۔ انہوں نے لبنانی فوج کی مزید معاونت اور اسے جدید وسائل فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
صدر عون نے کہا کہ جنگ کبھی امن اور استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتی، بلکہ اس کے نتیجے میں صرف بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، تباہی اور بے گھری میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی، کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ فوجی طاقت نہ پائیدار امن قائم کر سکتی ہے اور نہ ہی مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ کر سکتی ہے۔
صدر لبنان نے انجمن "العاملیہ" کے ارکان سے ملاقات کے دوران بھی اسرائیل کے لبنان کی تمام مقبوضہ سرزمین سے مکمل انخلا، بے گھر افراد کی واپسی، قیدیوں کی رہائی، شہداء کی میتوں کی حوالگی اور تعمیرِ نو کے عمل کے آغاز پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لبنان کے صدر کی حیثیت سے ملک کے حقوق اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ صدر عون نے مزید اعلان کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران وہ ان سے مطالبہ کریں گے کہ وہ "فریم ورک معاہدے" پر عمل درآمد اور لبنان کے مطالبات کی تکمیل کے لیے اسرائیل پر مؤثر دباؤ ڈالیں۔
آپ کا تبصرہ